|
مکتبہ راشدیہ کا قیام: شاہ صاحب رحمہ اللہ کو کتب بینی اور مطالعہ کا شوق ورثے میں ہی ملا تھا، آپ کے جد امجد علامہ رشداللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے باقاعدہ مکتبہ کی بنیاد رکھی تھی جس میں بیشمار نادر ونایاب قلمی کتب موجود تھیں، مذکورہ مکتبہ کا ایک حصہ نیشنل میوزیم کراچی کے سپرد کیا گیا تھا جن میں قلمی نسخوں کی تعداد تقریباً بارہ سو (1200) تھی ۔ فالی اللہ المشتکی شاہ صاحب رحمہ اللہ کے والد ماجد علامہ سید احسان اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ کو کتب جمع کرنے کا بڑا شوق تھا اور آپ نے بیشمار مخطوط اور مطبوع کتب جمع کیں، شاہ صاحب رحمہ اللہ کو اپنے خاندانی مکتبہ سے کچھ کتابیں ملی تھیں اس کے بعد جد امجد رحمہ اللہ نے ساری زندگی پیٹ پر پتھر باندھ کر کتا بیں جمع کیں اور آپ کی زندگی کا یہ ہی کل سرمایہ ہے، مکتبہ راشدیہ آپ اپنے ورثاء کے لئے وقف کرگئے جس میں مختلف علوم وفنون پر مشتمل ہزاروں کتب کی تعداد میں مخطوط اور مطبوع کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ فللہ الحمد مکتبہ راشدیہ کی جدید تعمیر : بحمد للہ تعالی مکتبہ راشدیہ کی نئی عمارت تیاری کے آخری مراحل میں ہے ، جس میں تحقیقات کا شعبہ قائم کیا جا ئے گا اور مخطوط اور غیر مطبوع کتب پر تحقیق (Research) بھی کی جائیگی، اور پورے مکتبہ کو کمپیوٹرائزڈ (Computerized) کیا جائیگا ۔ اورمدرسہ للبنات ، اور جامعہ راشدیہ (Rashdia Universty) کا قیام بھی جلد از جلد عمل میں لایا جائیگا۔ ان شاء اللہ تعالی نیو سعید آباد سندھ: یہ شہر شاہ صاحب رحمہ اللہ کے آبائی گاؤں کے قریب ہے جس میں شاہ صاحب رحمہ اللہ نے دین کا کام (جامع مسجد، مدرسہ اور مکتبہ الراشدیہ) شروع کیا جس شہر میں باہر ملک سے اور بہت دور دراز سے لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے اکثریت عرب لوگوں کی تھی اس لئے اس شہر کو بنت العرب بھی کہا گیا۔ اور اسی شہر میں شاہ صاحب رحمہ اللہ تین روزہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کرواتے تھے بحمد للہ شا ہ صاحب کی قائم کی ہوئی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس تا حال عظیم الشان انداز میں رواں دواں ہے، جس میں پورے ملک سے جید بڑے علماء وخطباء قرآن وحدیث کی بات سنا کر لوگوں کو صحیح راستہ پر چلنے کا طریقہ بتاتے ہیں ، اس پروگرام کو سننے کے لئے پورے ملک اور خاص طور صوبہ سندھ کے کونے کونے سے بڑے جوش وذوق سے لوگ قرآن وحدیث کی بات سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں ، کانفرنس کے موقع پر مختلف اسلامی کتابوں کے اسٹال بھی لگتے ہیں جس میں المرکز الاسلامی للبحوث العلمية کا صرف اپنی مطبوعات کاایک الگ ہی نمایاں اسٹال لگتا ہے۔ تو ایسے ہی شاہ صاحب رحمہ اللہ کے ہاتھوں کچھ دینی کاموں کی رکھی ہوئی بنیاد سے شہر میں خوشحالی اور رونق نظر آتی ہے۔
|